12/12/2011
اسہال (دست، پیچش، ہیضہCholera
10/12/2011
Ghiya Tori Benefits in Urdu
گھیا توری کا شمار ہلکی پھلکی غذاﺅں میں ہوتا ہے۔ یہ آسانی سے ہضم ہوجاتی ہے اور قبض نہیں ہونے دیتی۔ اس کے علاوہ اگر جسم کے کسی بھی حصے سے خون کا اخراج ہورہا ہو تو اس کے لئے توری کا سالن اکسیر کا درجہ رکھتا ہے۔بواسیر، قبض اور پیشاب میں سوزش کے لئے توری کا استعمال بہت مفید سمجھا جاتا ہےموسم گرما کی ایک مشہور سبزی ہے۔ ویسے تو یہ سال بھر بازاروں میں دستیاب ہوتی ہے مگر زیادہ مقدار میں اور عمدہ اقسام میں یہ موسم گرما میں ہی حاصل کی جاسکتی ہے۔ اس کے علاوہ اس کی تاثیر بھی سرد و تر ہے۔ اس لئے گرمی کے موسم میں اس کا استعمال فائدہ مند رہتا ہے۔ توری دراصل ایک بیل سے حاصل کی جاتی ہے جو کھیتوں میں دور دور تک پھیلی ہوئی ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کو گھروں میں بھی بیل لگاکر حاصل کیا جاسکتا ہے۔ اس کی دو قسمیں ہیں جس میں ایک لکیردار اور چھلکے دار جبکہ دوسری چکنے ہموار چھلکے والی ہوتی ہے۔ چکنے اور ہموار چھلکے والی توری کی بیلیں اگر درختوں پر چڑھادی جائیں تو بہت زیادہ پھیلتی ہیں۔ اس توری کو گھیا توری بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے جب کہ لکیردار توری نسبتاً کڑوی ہوتی ہے۔
توری کو عربی زبان میں قیشا، سندھی میں دل توری، فارسی میں شاہ توری، بنگالی میں گوشالٹ اور لاطینی میں لیوفا ایکٹنگیولا Luffa Acutangula کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ اکثر علاقوں میں اسے ترئی بھی کہا جاتا ہے۔ اس میں وٹامن سی اور گلوکوز کی وافرمقدار پائی جاتی ہے جس کے انسانی صحت پر انتہائی منفعت بخش اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ توری کو اطباءحضرات نے بہت سے امراض کے علاج کے سلسلے میں بھی استعمال کرنے کی ہدایت دی ہے جن میں سے کچھ درج ذیل ہیں۔
بخار: توری کی سرد و تر تاثیر کی بدولت جسم میں ٹھنڈک اور تراوٹ کا احساس ہوتا ہے۔ بخار کے مریض کو اگر توری کا سالن کالی مرچ ملاکر دیا جائے تو آرام آجاتا ہے۔ اس کے علاوہ بخار کی شکایت میں منہ کا ذائقہ خراب ہوجاتا ہے۔ یعنی اگر پانی بھی پیا جائے تو کڑوا معلوم ہوتا ہے توری کے استعمال سے منہ کا ذائقہ بھی ٹھیک ہوجاتا ہے۔
قبضتوری کا شمار ہلکی پھلکی غذاﺅں میں ہوتا ہے۔ یہ آسانی سے ہضم ہوجاتی ہے اور قبض نہیں ہونے دیتی۔ اس کے علاوہ اگر جسم کے کسی بھی حصے سے خون کا اخراج ہورہا ہو تو اس کے لئے توری کا سالن اکسیر کا درجہ رکھتا ہے۔
بواسیربواسیر، قبض اور سوزاک یا پیشاب میں سوزش کے لئے توری کا استعمال بہت مفید سمجھا جاتا ہے۔ خونی بواسیر میں توری کو کچل کر اس کا لیپ کیا جاتا ہے۔ توری کے استعمال سے پیشاب کے اخراج کی رکاوٹ ختم ہوسکتی ہے اور اس کی سوزش بھی دور ہوسکتی ہے۔
تلی کا ورماگر تلی پر ورم ہو تو اس کے بیج پیس کر تلی کے مقام پر لیپ کرنے سے ورم بہت جلدی تحلیل ہوسکتا ہے۔ زخم بھرنے کے لئے اس کے ہرے پتے زخموں پر باندھنے سے بہت تیزی سے زخم مندمل ہونے لگتے ہیں۔
دمہتوری کی ایک قسم کڑوی ہے۔ یہ توری دست آور ہوتی ہے۔ دمہ میں اس کو بکری کے دودھ میں جوش دیں اور مسل کر اور پھر چھان کر پلانے سے کافی مقدار میں قے آتی ہے اور بلغم خارج ہوکر دمہ میں آرام آجاتا ہے۔
اعصابی امراضکڑوی توری اعصابی امراض مثلاً فالج، لقوہ، مرگی اور خون کی خرابی کے امراض مثلاً خارش، پھوڑے، پھنسیوں میں بھی فائدہ مند ہے اور اس کے بیج پیچش کی موثر دوا ہوتے ہیں۔ توری کے بیجوں کا تیل جلدی شکایات میں بھی نافع دیکھا گیا ہے۔
09/12/2011
Dard-e-Shaqiqa ka Or sar dard ka ilaj
سر درد کی کئی اقسام ہیں جن میں ایک آدھے سر کا درد ہے جسے درد شقیقہ
جبکہ جدید ایلوپیتھی اصطلاح میں مائیگرین کہتے ہیں ۔ بعض اوقات یہ پورے سر
میں ہوتا ہے مگر آدھے سر میں کم اور آدھے میں زیادہ ہوتا ہے ۔ درد شقیقہ
بڑی شدت سے ہوتا ہے اور مریض کو کسی کام کاج کا نہیں چھوڑتا ۔ بھنوؤں کے
اوپر اور ملحقہ حصے کا درد بھی شقیقہ ہی کی ایک قسم ہے ۔
قدیم طبی
کتب میں مشرق وسطیٰ کے پہلی صدی کے طبیب الواطیس نے اسے درد سر کی ایک قسم
قرار دیا ۔ جالینوس نے شقیقہ کا نام دیا اس وقت سے اسی نام سے معروف ہے ۔
مردوں کی نسبت عورتوں میں زیادہ ہوتا ہے ۔ آدھے سر کا درد عموماً یکایک اور
اکثر صبح کے وقت طلوع آفتاب کے ساتھ شروع ہوتا ہے جوں جوں تمازت آفتاب میں
اضافہ ہوتا ہے ، درد میں بھی اضافہ ہوتا ہے ۔ چنانچہ جب سورج نصف النہار
پر ہوتا ہے تو درد میں شدت غیر معمولی ہوتی ہے ۔ زوال آفتاب کے ساتھ ساتھ
اس میں کمی آتی جاتی ہے اور غروب آفتاب کے ساتھ ختم ہو جاتا ہے ۔ اگرچہ یہ
درد سر میں ہوتا ہے تاہم پورا جسم اثر پذیر ہوتا ہے ۔ شدت درد سے مریض کو
سر پھٹتا ہوا محسوس ہوتا ہے ، آنکھوں کے سامنے چنگاریاں محسوس ہوتی ہیں اور
بھنوؤں میں بھی درد ہوتا ہے ۔ دیکھا گیا ہے کہ اس کا دورہ وقفہ وقفہ سے
ہوتا ہے ۔ اور بعض لوگوں میں جی متلاتا ہے اور قے آتی ہے ، کبھی تو اس کی
شدت درد بھوک کی خواہش ختم کر دیتی ہے ۔ جب دورہ ختم ہو جائے یا درد ختم ہو
جائے تو مریض مکمل طور پر اپنے آپ کو صحیح اور پرسکون پاتا ہے ۔
جب درد شقیقہ پرانا ہو جائے تو ذرا مشکل سے جاتا ہے ، درد سر کا مادہ عام طور پر شریانوں میں ہوتا ہے ۔ گاہے یہ مادہ میں پیدا ہوتا ہے اس مرض کی خاص علامت یہ ہے کہ شریانیں تڑپتی ہیں جس سے سخت ٹیس اٹھتی ہے اگر شریانوں کو دبا کر تڑپنے سے روکا جائے تو خون اور فضلات کے بخارات جو درد سر کا سبب بنتے ہیں شریانوں سے دماغ کی طرف نفوذ کر جاتے ہیں ۔
جب درد شقیقہ پرانا ہو جائے تو ذرا مشکل سے جاتا ہے ، درد سر کا مادہ عام طور پر شریانوں میں ہوتا ہے ۔ گاہے یہ مادہ میں پیدا ہوتا ہے اس مرض کی خاص علامت یہ ہے کہ شریانیں تڑپتی ہیں جس سے سخت ٹیس اٹھتی ہے اگر شریانوں کو دبا کر تڑپنے سے روکا جائے تو خون اور فضلات کے بخارات جو درد سر کا سبب بنتے ہیں شریانوں سے دماغ کی طرف نفوذ کر جاتے ہیں ۔
طب مشرقی کا
معینہ اور بنیادی اصول علاج یہ ہے کہ اسباب مرض کا مداوا کیا جائے یہی وجہ
ہے کہ علاج سے قبل اسباب مرض جاننا ضروری ہوتا ہے ۔ درد شقیقہ کے اسباب میں
رات کو نیند سے غفلت برتنے والے کی ایک بڑی تعداد پر اس کا شکار ہوتی ہے ۔
نیند کی کمی سے دماغ اور اعصاب متاثر ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ نزلہ زکام کا
رہنا ، عام جسمانی کمزوری ، اور فاسد رطوبات کا بند ہونا شامل ہیں ۔ ایک
خیال یہ ہے کہ اس مرض میں موروثی اثرات کو بھی دخل ہے ۔ موسم بھی اس کا ایک
سبب ہو سکتا ہے ، بے خوابی سے بھی ہو جاتا ہے ۔ جدید تحقیقات کے مطابق
رگوں میں تشنج کی وجہ سے وہ ایک طرف سکڑ جاتی ہیں جس کی وجہ سے دوران خون
میں رکاوٹ ہوتی ہے ۔ رگیں پھول کر درد ہوتا ہے ۔
طب مشرقی میں درد
شقیقہ کے علاج میں مکمل نیند اور نظام ہضم کی اصلاح کی طرف توجہ دی جاتی ہے
۔ جن حضرات کو یہ درد ہو وہ غذا کم اور زود ہضم استعمال کریں ۔ پھلوں اور
سبزیوں کا استعمال بڑھا دیں ، گاجریں اور ان کا جوس اس شکایت میں بہت مفید
ہے ۔
بعض لوگ درد سے نجات کے لیے درد کی گولیاں یا مسکن ادویہ
استعمال کر کے وقتی سکون حاصل کر لیتے ہیں لیکن یہ طرز علاج سراسر منفی و
مضرات کا باعث ہے کیونکہ ان کے ما بعد اثرات سے متعدد مسائل جنم لیتے ہیں
جن میں مریض کا ان ادویہ کا عادی بن جانا اور اعصاب کا متاثر ہونا ہے ۔
قبض کی صورت میں رات کو گلقند آفتابی دو تولے تازہ پانی سے کھا لیا کریں ۔
ذیل کا نسخہ دردشقیقہ میں مفید ثابت ہوا ہے ۔
ھواالشافی:
قبض کی صورت میں رات کو گلقند آفتابی دو تولے تازہ پانی سے کھا لیا کریں ۔
ذیل کا نسخہ دردشقیقہ میں مفید ثابت ہوا ہے ۔
ھواالشافی:
کنجد سفید 3 گرام ، اسطخودوس 3 گرام ، کشنیز1 گرام ، مرچ سیاہ 3 دانہ ۔
پانی یا دودھ میں پیس کر چھان کر حسب ضرورت چینی/ کھانڈ کا اضافہ کر کے طلوع آفتاب سے قبل نوش جان کریں کم از کم بیس یوم پی لیں
پانی یا دودھ میں پیس کر چھان کر حسب ضرورت چینی/ کھانڈ کا اضافہ کر کے طلوع آفتاب سے قبل نوش جان کریں کم از کم بیس یوم پی لیں
Karela (Bitter-Gourd) Benefits in urdu
گرم خشک بلگم کو دور کرتا ہے۔ بادی مٹاتا ہے۔ پیٹ کے کیڑوں کو مارتا ہے۔ بلگمی مزاج والوں کے لیے خاص طور پر مفید ہے۔ اپھارہ دور کرتا ہے۔ پیشاب آور ہے۔ دردوں میں مفید ہے۔ قدرے قابض کشا ہے۔ تلی جگر میں اس کا زیادہ استعمال کرنا چاہیے بھوک خوب لگاتا ہے۔ اعضائے رئیسہ کو طاقت دیتا ہے۔ بگیر کھٹائی کے تیل یا گھی میں پکانا چاہیے
BHINDI Benefits In Urdu
سرد تر لیس دار بھاری ہے۔ ویرج اور لیکوریا میں بے حد مفید ہے۔ خشکی کو ہٹاتی ہے۔ ہاضمہ کی خرابی میں اس کا استعمال اچھا نہیں
لندن – ہری بھری بھنڈی اپنے اندر کتنے فوائد رکھتی ہے اس کا پتا حالیہ تحقیق میں چلا ہے کہ بھنڈی کھانے سے ڈپریشن اور جسمانی کمزوری کا خاتمہ ہوتا ہے ۔ حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بھنڈی کھانے سے السر اور جوڑوں کے درد میں آرام آتا ہے ۔ اس کے علاوہ پھیپھڑوں میں انفیکشن اور گلے کی خرابی بھی بھنڈی کھانے سے دور ہوجاتی ہے ۔ بھنڈی وہ واحد سبزی ہے جواپنے اندر وٹامن سی کی بڑی مقدار رکھتی ہے اور بھنڈی کا زیادہ استعمال کرنے سے کولیسٹرول بھی کنٹرول کیا جاسکتا ہے
لندن – ہری بھری بھنڈی اپنے اندر کتنے فوائد رکھتی ہے اس کا پتا حالیہ تحقیق میں چلا ہے کہ بھنڈی کھانے سے ڈپریشن اور جسمانی کمزوری کا خاتمہ ہوتا ہے ۔ حالیہ تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ بھنڈی کھانے سے السر اور جوڑوں کے درد میں آرام آتا ہے ۔ اس کے علاوہ پھیپھڑوں میں انفیکشن اور گلے کی خرابی بھی بھنڈی کھانے سے دور ہوجاتی ہے ۔ بھنڈی وہ واحد سبزی ہے جواپنے اندر وٹامن سی کی بڑی مقدار رکھتی ہے اور بھنڈی کا زیادہ استعمال کرنے سے کولیسٹرول بھی کنٹرول کیا جاسکتا ہے
08/12/2011
Benefits Of Olive Oil in Urdu
زیتون ایک درخت ہے جس کا پھل زیتونہ کہلاتا ہے اُس پھل سے جو تیل حاصل کیا جاتا ہے اُسے روغنِ زیتون کہا جاتا ہے۔زیتون اور روغنِ زیتون کے بےشمار خواص اور فوائد ہیں۔
زیتون اور روغنِ زیتون کے بارے میں کئی احادیث میں بھی ذکر ہے اور بعض حوالوں سے اسے ستر بیماریوں کے لئے شافی قرار دیا گیا ہے۔
روغنِ زیتون سب سے زیادہ پیٹ کے امراض کے لئے مفید اور شافی ہوتا ہے۔یہ بدن کو گرم کرتا ہے،پتھری کو توڑ کر نکالتا ہے اور قبض کشا بھی ہے۔
معدے کے افعال کو درست کرکے روغنِ زیتون بھوک کو بڑھاتا ہے اور آنتوں میں پڑے ہوئے سدے بھی کھول دیتا ہے۔پتے کی پتھری بھی روغنِ زیتون کے استعمال سے ٹوٹ کر خارج ہوجاتی ہے۔
زیتون کا تیل اگر تھوڑی مقدار میں دودھ کے ساتھ ملا کر پیئیں تو اس سے بتدریج السر سے مکمل طور پر نجات مل جاتی ہے اور معدے کی تیزابیت بھی ختم ہوجاتی ہے۔
دائمی اور پرانے قبض کو ختم کرنے کے لئے ایک تولہ روغنِ زیتون کو جو کے گرم پانی میں ڈال کر پیئیں تو دو تین دن کے اندر قبض سے نجات مل جاتی ہے۔
پیٹ کے اندر اگر فاسد مادے پیدا ہو چکے ہوں یا پیٹ میں کوئی زہریلی شئے چلی جائے تو اُس کا اثر زائل کرنے کی خاطر زیتون کا تیل ہی سب سے موثر اور اکسیر تریاق ہوگا۔
زیتون کے تیل کو کسی نہ کسی صورت میں جو لوگ کھاتے رہتے ہیں وہ کبھی آنتوں اور پیٹ کے سرطان کا شکار نہیں ہوسکتے۔
تپِ دق جیسے موذی مرض کا علاج بھی بذریعہ روغنِ زیتون شافی انداز میں کیا جاسکتا ہے۔اس مقصد کے لئے ہر روز تین اونس روغنِ زیتون براہِ راست یا دودھ میں ملا کر پینا ضروری ہوتا ہے۔یہ عمل تقریباً دو ماہ تک جاری رکھیں تو اس مرض سے مستقل طور پر نجات مل جاتی ہے۔
روغنِ زیتون کو دمہ کے مرض سے بچنے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا ہے۔اس کے لئے شہد اور زیتون کے تیل کو برابر وزن کے ساتھ گرم پانی میں ملا کر پینا چاہیے ۔مستقل استعمال سے دمہ ختم ہو جاتا ہے ۔نزلہ زکام اور کھانسی بھی مستقل طور پر ختم ہوجاتے ہیں۔
زیتون کا تیل پسینہ خارج کرنے کا موجب بنتا ہے۔جسمانی اعضاء کو قوت اور توانائی بخشتا ہے۔
زیتون کے تیل کو جلد کی متعدد بیماریوں کے علاج کے لئے مجرد حالت میں یا مرہم میں شامل کرکے اکسیر بنایا جا سکتا ہے۔یہ جلد کے تمام بیرونی عوارض میں مفید ہوتا ہے۔آگ کے جلنے سے بنے ہوئے زخموں ،پھوڑے پُھنسیوں داد اور عام زخم کے علاج کے لئے بھی زیتون کا تیل لگانا فائدہ مند ہوتا ہے۔زیتون کی مسلسل مالش سے چیچک اور زخم کے داغ دھبے ختم ہوجاتے ہیں۔
آنکھوں کی کئی بیماریوں اور سرخی و سوزش ختم کرنے کے لئے سلائی سے زیتون کا تیل آنکھ میں لگائیں تو افاقہ ہوتا ہے۔
بالوں کو گرنے سے بچانے کے لئے سفید ہونے سے روکنے کی خاطر ہر روز بالوں میں زیتون کا تیل لگانا سب سے بڑا اور موثر نسخہ ہے۔
زیتون کے تیل کی باقاعدہ مالش کرنے سے جوڑوں کا درد اور لنگڑی کا درد ( عرق النساء ) بھی بدستور ختم ہوجاتا ہے۔
خواتین اپنے ہاتھوں ،بازوؤں اور چہرے کو نکھارنے کے لئے اور گداز رکھنے کی خاطر زیتون کے تیل کی مالش کو معمول بنا لیں تو یہ جلد کے لئے نہایت مفید ہوتا ہے۔
بچھو ،شہد کی مکھی یا بِھڑ وغیرہ کے کاٹے پر روغنِ زیتون ملنے سے جلد ہی زہر کا اثر زائل ہوجاتا ہے اور درد سے نجات مل جاتی ہے۔
روغنِ زیتون کا موسمِ سرما میں استعمال کرنے سے بالوں سے خشکی سکری دور ہوجاتی ہے۔
جو لوگ زیتون کے تیل میں کھانا بناتے ہیں وہ لاتعداد عوارض اور بیماریوں سے بچے رہتے ہیں۔
حکماء کا کہنا ہے کہ روغنِ زیتون میں خرگوش کو گوشت پکا کر کھانے سے عورتوں میں بانجھ پن ختم ہوسکتا ہے۔
کلونجی کو بھون کر زیتون کے تیل میں پیس کر مرہم بنا کر اگر پرانی خارش یا فِنگس پر لگائیں تو اس سے چند دنوں میں افاقہ محسوس ہوتا ہے۔
غرضکیہ زیتون کے روغن میں پکے ہوئے پکوان ،اچار یا مٹھائیاں ذائقے میں منفرد ہوتی ہے اور معدے پر گراں نہیں گزرتی، زیتون کا تیل صحت اور تندرستی پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے اور معدے کی فعالیت میں بھی اضافہ ہوتا ہے
Walnut Or Akhrot Benefits in Urdu
ایک نئی تحقیق
سے سامنے آیا ہے کہ کھانا کھانے کے بعد اخروٹ کھانے سے خوراک میں شامل مضر
صحت چکنائی کا اثر کم ہو جاتا ہے چکنی خوراک شریانوں کو نقصان پہنچا سکتی
ہے اور اخروٹ کھانے سے یہ نقصان کافی حد تک کم ہو جاتا ہے ۔
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اخروٹ میں ایسے مادّے پائے جاتے ہیں جو شریانوں کے چکنائی جمع کرنے کی صلاحیت کو کم کر دیتے ہیں ۔
بارسلونا کے ایک ہسپتال کے ماہرین نے کہا ہے کہ ہر فرد کو روزآنہ 28 گرام اخروٹ کھانے چاہئیں ۔ یہ تحقیق امریکہ کے جرنل آف کارڈیالوجی میں شائع ہوئی ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ اخروٹ صحت کے لیئے زیتون سے بھی زیادہ مفید ہیں ۔
اس تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر ایمیلوروز کا کہنا ہے کہ چکنی خوراک کھانے سے چکنائی شریانوں کے اندرونی حصّوں میں جمع ہوتی رہتی ہے اخروٹ میں ایک ایسا امینو ایسڈ پایا جاتا ہے جس سے نائٹرک آکسائیڈ پیدا ہوتا ہے جو شریانوں کو لچکدار رکھنے میں مدد دیتا ہے ۔ ( کوئی بھی علاج شروع کرنے سے پہلے معالج سے مشورہ ضرور کر لیں )
سائنسدانوں کا خیال ہے کہ اخروٹ میں ایسے مادّے پائے جاتے ہیں جو شریانوں کے چکنائی جمع کرنے کی صلاحیت کو کم کر دیتے ہیں ۔
بارسلونا کے ایک ہسپتال کے ماہرین نے کہا ہے کہ ہر فرد کو روزآنہ 28 گرام اخروٹ کھانے چاہئیں ۔ یہ تحقیق امریکہ کے جرنل آف کارڈیالوجی میں شائع ہوئی ہے اور اس میں کہا گیا ہے کہ اخروٹ صحت کے لیئے زیتون سے بھی زیادہ مفید ہیں ۔
اس تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر ایمیلوروز کا کہنا ہے کہ چکنی خوراک کھانے سے چکنائی شریانوں کے اندرونی حصّوں میں جمع ہوتی رہتی ہے اخروٹ میں ایک ایسا امینو ایسڈ پایا جاتا ہے جس سے نائٹرک آکسائیڈ پیدا ہوتا ہے جو شریانوں کو لچکدار رکھنے میں مدد دیتا ہے ۔ ( کوئی بھی علاج شروع کرنے سے پہلے معالج سے مشورہ ضرور کر لیں )
Cinnamon and Honey /sahad aur darchini kai faida
صحت شہد اور دارچینی سے
شہد اور دارچینی کا مرکب بہت ساری بیماریوں کو دور کر سکتا ہے۔شہد بغیر کسی سائیڈ افیکٹ کے بہت سی بیماریوں کا علاج کر سکتا ہے۔نئے دور کی جدید تحقیق نے یہ بات ثابت کی ہے کہ شہد تمام بیماریوں کے علاج میں مفید ثابت ہوتا ہے ۔یہاں تک کہ اگر اسے ایک مخصوص مقدار میں شوگر کے مریض بھی لیں تو انکے لیے بھی یہ فائدہ مند ہے۔ہفت روزہ ورلڈ نیوز ،(کینیڈا کا ایک جریدہ ہے ) اسکے جنوری ١٧ ،١٩٩٥ کے شمارے میں مندرجہ ذیل بیماریوں کی لسٹ شائع ہوئی جنکا علاج شہد اور دارچینی سے عین ممکن ہے۔
دل کی بیماری میں؛
شہد اور دارچینے کا پیسٹ بنایئں اور اسے روٹی یا ڈبل روٹی پر جام ،جیلی کی بجائے لگایئں اور روزانہ کھایئں۔یہ کلسٹرول کو کم کرتا ہے شریانوں میں سے اور دل کے دورے سے بچاتا ہے۔جنھیں دل کا دورہ پہلے بھی پڑ چکا ہو وہ بھی اگر روزانہ یہ لیں تو یہ انہیں اگلے دورے سے دور رکھے گا۔اسکا روزانہ استعمال حبس دم میں مفید ہے اور دل کی دھڑکن کو بہتر بناتا ہے۔امریکہ اور کینیڈا کے مختلف نرسنگ ہومز میں مریضوں کو بہت کامیابی کے ساتھ اس طریقے سے ٹریٹ کیا جا رہا ہے۔جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے دل کی شریانوں کی لچک میں کمی واقع ہوتی ہے اور رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔شہد اور دارچینی سے شریانوں کی قوت کو دوبارہ بحال ہوتی ہے۔
دانت کے درد میں؛
ایک چمچہ پسی دارچینی اور پانچ چمچے شہد کا ایک پیسٹ بنایئں۔ اور اسے اس دانت پر دن میں تین مرتبہ لگایئں جس میں درد ہو جب تک کے درد ختم نہ ہو جائے۔
بڑھے ہوئے کلسٹرول میں
دو کھانے کے چمچے شہد اور تین چائے کے چمچے پسی ہوئی دارچینی کو ١٦ اونس چائے کے پانی میں ملایئں۔اور کلسٹرول کے مریض کو دیں۔اس سے ١٠٪ کلسٹرول صرف دو گھنٹوں میں کم ہو جاتا ہے۔اگر اسے روزانہ دن میں تین مرتبہ لیا جائے تو پرانے سے پرانا مرض بھی ٹھیک ہو جاتا ہے اور اگر خالص شہد روزانہ کھانے کے ساتھ لیا جائے تو اس مرض میں بہت مفید ہے۔
اگر ٹھنڈ لگ جائے تو
ایک کھانے کا چمچہ نیم گرم شہد اور ایک چوتھائی چمچہ پسی دارچینی روزانہ دن میں تین مرتبہ لیں تو پرانے سے پرانا بلغم ،ٹھنڈ دور کرتا ہے اور سایئنس کو صاف کرتا ہے۔
معدے کے امراض میں
شہد ،دارچینی کے ساتھ لینے سے معدے کا درد بھی دور ہوتا ہے اور معدے کے السر کو بھی یہ جڑ سے اکھاڑ دیتا ہے۔
گیس کی تکلیف میں
انڈیا اور جاپان کی تحقیق کے مطابق شہد اور پسی دارچینی کو ایک ساتھ لینے سے گیس سمیت معدے کی جملہ تکالیف میں افاقہ ہوتا ہے۔
وبائی زکام میں
تین دن تک نیم گرم شہد ایک کھانے کے چمچے کے ساتھ پسی دارچینی ایک چوتھائی چائے کا چمچہ۔
دانوں اور جلدی امراض کے لیے
تین کھانے کے چمچے شہد اور ایک چائے کا چمچہ پسی دارچینی کا پیسٹ بنا لیں۔رات سوتے وقت اسے چہرے پر لگایئں اور صبح دھو لیں۔اگر یہ عمل دو ہفتے تک مستقل کیا جائے تو یہ چہرے کے دانوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے۔اسکے علاوہ ایگزیمہ ،داد اور جلد کی دوسری بیماریوں کے لیے بھی مجرب نسخہ ہے۔
وزن کو کم کرنے کے لیے
روزانہ صبح ناشتے سے آدھا گھنٹہ پہلے،خالی پیٹ اور رات سونے سے پہلے ،ایک چائے کا چمچہ دارچینی اور ایک کھانے کا چمچہ شہد ایک کپ گرم پانی میں پیئں۔اگر یہ عمل روزانہ کیا جائے تو وزن کم ہو جاتا ہے اور اس کے مستقل استعمال سے جسم میں فاضل چربی بھی نہیں بن پاتی ہے۔
کینسر کے لیے
معدے اور ہڈیوں کے کینسر کے کئی مریض جاپان اور آسٹریلیا میں اس طریقہ علاج سے مستفید ہوئے ہیں۔دواؤں کے ساتھ روزانہ ایک چائے کا چمچہ پسی دارچینی اور ایک کھانے کا چمچہ شہد روزانہ دن میں تین بار لیں۔
بالوں کے جھڑنے میں
روزانہ صبح اور رات میں ایک چائے کا چمچہ شہد اور پسی دارچینی لینے سے بالوں کا جھڑنا بھی رک جاتا ہے۔
انتباہ
کسی بھی چیز کی زیادتی اچھی نہیں ہوتی ہے۔اسلیے بتائے ہوئے طریقوں سے تجاوز نہ کریں۔تحقیق نے یہ بات ثابت کی ہے کہ دارچینی کا تیل ایک مؤثر مچھر مار ہوتا ہے ۔یہ تحقیق بتاتی ہے کہ دارچینی کا بیجا استعمال صحت کے لیے مضر بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
شہد اور دارچینی کا مرکب بہت ساری بیماریوں کو دور کر سکتا ہے۔شہد بغیر کسی سائیڈ افیکٹ کے بہت سی بیماریوں کا علاج کر سکتا ہے۔نئے دور کی جدید تحقیق نے یہ بات ثابت کی ہے کہ شہد تمام بیماریوں کے علاج میں مفید ثابت ہوتا ہے ۔یہاں تک کہ اگر اسے ایک مخصوص مقدار میں شوگر کے مریض بھی لیں تو انکے لیے بھی یہ فائدہ مند ہے۔ہفت روزہ ورلڈ نیوز ،(کینیڈا کا ایک جریدہ ہے ) اسکے جنوری ١٧ ،١٩٩٥ کے شمارے میں مندرجہ ذیل بیماریوں کی لسٹ شائع ہوئی جنکا علاج شہد اور دارچینی سے عین ممکن ہے۔
دل کی بیماری میں؛
شہد اور دارچینے کا پیسٹ بنایئں اور اسے روٹی یا ڈبل روٹی پر جام ،جیلی کی بجائے لگایئں اور روزانہ کھایئں۔یہ کلسٹرول کو کم کرتا ہے شریانوں میں سے اور دل کے دورے سے بچاتا ہے۔جنھیں دل کا دورہ پہلے بھی پڑ چکا ہو وہ بھی اگر روزانہ یہ لیں تو یہ انہیں اگلے دورے سے دور رکھے گا۔اسکا روزانہ استعمال حبس دم میں مفید ہے اور دل کی دھڑکن کو بہتر بناتا ہے۔امریکہ اور کینیڈا کے مختلف نرسنگ ہومز میں مریضوں کو بہت کامیابی کے ساتھ اس طریقے سے ٹریٹ کیا جا رہا ہے۔جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے دل کی شریانوں کی لچک میں کمی واقع ہوتی ہے اور رکاوٹ پیدا ہوتی ہے۔شہد اور دارچینی سے شریانوں کی قوت کو دوبارہ بحال ہوتی ہے۔
دانت کے درد میں؛
ایک چمچہ پسی دارچینی اور پانچ چمچے شہد کا ایک پیسٹ بنایئں۔ اور اسے اس دانت پر دن میں تین مرتبہ لگایئں جس میں درد ہو جب تک کے درد ختم نہ ہو جائے۔
بڑھے ہوئے کلسٹرول میں
دو کھانے کے چمچے شہد اور تین چائے کے چمچے پسی ہوئی دارچینی کو ١٦ اونس چائے کے پانی میں ملایئں۔اور کلسٹرول کے مریض کو دیں۔اس سے ١٠٪ کلسٹرول صرف دو گھنٹوں میں کم ہو جاتا ہے۔اگر اسے روزانہ دن میں تین مرتبہ لیا جائے تو پرانے سے پرانا مرض بھی ٹھیک ہو جاتا ہے اور اگر خالص شہد روزانہ کھانے کے ساتھ لیا جائے تو اس مرض میں بہت مفید ہے۔
اگر ٹھنڈ لگ جائے تو
ایک کھانے کا چمچہ نیم گرم شہد اور ایک چوتھائی چمچہ پسی دارچینی روزانہ دن میں تین مرتبہ لیں تو پرانے سے پرانا بلغم ،ٹھنڈ دور کرتا ہے اور سایئنس کو صاف کرتا ہے۔
معدے کے امراض میں
شہد ،دارچینی کے ساتھ لینے سے معدے کا درد بھی دور ہوتا ہے اور معدے کے السر کو بھی یہ جڑ سے اکھاڑ دیتا ہے۔
گیس کی تکلیف میں
انڈیا اور جاپان کی تحقیق کے مطابق شہد اور پسی دارچینی کو ایک ساتھ لینے سے گیس سمیت معدے کی جملہ تکالیف میں افاقہ ہوتا ہے۔
وبائی زکام میں
تین دن تک نیم گرم شہد ایک کھانے کے چمچے کے ساتھ پسی دارچینی ایک چوتھائی چائے کا چمچہ۔
دانوں اور جلدی امراض کے لیے
تین کھانے کے چمچے شہد اور ایک چائے کا چمچہ پسی دارچینی کا پیسٹ بنا لیں۔رات سوتے وقت اسے چہرے پر لگایئں اور صبح دھو لیں۔اگر یہ عمل دو ہفتے تک مستقل کیا جائے تو یہ چہرے کے دانوں کو جڑ سے اکھاڑ پھینکتا ہے۔اسکے علاوہ ایگزیمہ ،داد اور جلد کی دوسری بیماریوں کے لیے بھی مجرب نسخہ ہے۔
وزن کو کم کرنے کے لیے
روزانہ صبح ناشتے سے آدھا گھنٹہ پہلے،خالی پیٹ اور رات سونے سے پہلے ،ایک چائے کا چمچہ دارچینی اور ایک کھانے کا چمچہ شہد ایک کپ گرم پانی میں پیئں۔اگر یہ عمل روزانہ کیا جائے تو وزن کم ہو جاتا ہے اور اس کے مستقل استعمال سے جسم میں فاضل چربی بھی نہیں بن پاتی ہے۔
کینسر کے لیے
معدے اور ہڈیوں کے کینسر کے کئی مریض جاپان اور آسٹریلیا میں اس طریقہ علاج سے مستفید ہوئے ہیں۔دواؤں کے ساتھ روزانہ ایک چائے کا چمچہ پسی دارچینی اور ایک کھانے کا چمچہ شہد روزانہ دن میں تین بار لیں۔
بالوں کے جھڑنے میں
روزانہ صبح اور رات میں ایک چائے کا چمچہ شہد اور پسی دارچینی لینے سے بالوں کا جھڑنا بھی رک جاتا ہے۔
انتباہ
کسی بھی چیز کی زیادتی اچھی نہیں ہوتی ہے۔اسلیے بتائے ہوئے طریقوں سے تجاوز نہ کریں۔تحقیق نے یہ بات ثابت کی ہے کہ دارچینی کا تیل ایک مؤثر مچھر مار ہوتا ہے ۔یہ تحقیق بتاتی ہے کہ دارچینی کا بیجا استعمال صحت کے لیے مضر بھی ثابت ہو سکتا ہے۔
Flu treatment Urdu/Nazla Zukam Ka Gharelo Ilaj
پانی اور بھاپ کا استعمال ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔
پانی حیات بخش ہی نہیں شفا بخش بھی ہوتا ہے نزلے کی صورت میں سب سے زیادہ ناک اوراسکی اندرونی چھلیاں متاثر ہوتیں ہیں ۔
وائرس سے نجات حاصل کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ جھلیوں سے خارج ہونے والی رطوبت انھیں بہا کر لے جائے ۔
اس عمل میں وضو کا عمل بہت معاون ثابت ہوتا ہے ۔ ناک میں صاف ستھرا پانی چھڑھا نے سے اندرونی چھلیاں اچھی طرح دھل جاتی ہیں ۔اگر پانی نیم گرم اور نمکین ہوتو اسے ذرا اندر چڑھا کر بند ناک آسانی سے کھولی جا سکتی ہے ۔ نمک کی وجہ سے ناک میں نہ صرف ورم دور ہوتا ہے بلکہ وائرس کی خاصی تعداد بھی دھل کر خارج ہوتی ہے جس سے بڑا آرام ملتا ہے اور مرض کی شدت میں کمی آجاتی ہے ۔
پانی کی بھاپ میں سانس لینے سے ناک سے حلق تک کا اندرونی حصہ نزلے کی رطوبت سے صاف ہوجاتا ہے ۔ اور ناک کی بندش سے ہونے والی گھٹن اور بے چینی دور ہوتی ہے ۔ یہ عمل بہت آسان ہے ، کسی صاف ستھری پتیلی میں تین چوتھائی پانی بھر کر اسے ابالیں اور اسے ا حتیاط سے کسی میز وغیرہ پر رکھ کر سر کے اوپر صاف کپڑا یا تولیہ لپیٹ کر اٹھتی بھاپ کی طرف چہرہ جھکا کر اس میں گہرے سانس لیتے رہیں ۔
یہ ضروری ہے کہ چہرہ بھاپ سے جھلسنے نہ پائے ۔ اسی پانی میں اگریوکلپٹس آئل کی بھی چند بوندے شامل کر لی جائیں توناک کھلنے اور وائرس کا بہ آسانی نکلنے کا عمل اور بھی موثر ہو جاتا ہے ۔ یوکلپٹس کا درخت جس کو عرف عام میں سفیدا بھی کہتے ہیں ، ہر جگہ موجود ہے اس کے تازہ پتوں سے بھی یہ کام لیا جاسکتا ہے ۔ کھولتے پانی میں اس کے مٹھی بھر پتے شامل کر لیں ۔ آپ ہمدرد بام کی ایک دو بوندوں سے بھی یہ کام لیں سکتے ہیں ۔ اس عمل سے ناک کھلنے کے علاوہ گلے کی خراش اور کھانسی کو بھی آرام ہوتا ہے اور نزلے کے حملے کا مقابلہ کرنے میں آسانی ہوجاتی ہے ۔ یہ عمل پانچ سے دس منٹ تک کرنا چاہیئے ۔
شہد اور لیموں کا استعمال ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔
جو لوگ چائے پیتے ہیں انھیں نزلے کے دوران بغیر دودھ کی چائے میں شکر کی جگہ شہد اور لیمو کا رس شامل کر کے پینا چاہیئے ۔ چائے کے علاوہ سادہ گرم پانی میں ایک چائے کا چمچ شہد اور تازہ لیمو کا رس شامل کر کے چسکیاں لیکر پینے سے چھیلے ہوئے گلے کو بہت آرام پہنچتا ہے ۔ جی چاہے تو شہد میں لیمو کے چند خطرے شامل کرکے بھی پیا جا سکتا ہے ۔ شہد میں جراثیم کشی کی صلاحیت ہوتی ہے اور لیمو میں شامل حیاتین ج (وٹامن سی ) جسم کی قوت مدافعت کو مستحکم کر تا ہے ۔ اس مرکب کو دھیرے دھیرے نگلنے سے منہ میں لعاب خوب بنتا ہے اور گلے کو آرام ملتا ہے ۔
دارچینی : جراثیم کی قاتل ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
بخار دور کرنے والی اور جراثیم کشی کی صلاحیت رکھنے والی دارچینی ہزاروں سال سے استعمال ہو رہی ہے ۔ مشرق کے گرم آب و ہوا والے ملکوں میں پیدا ہونے والی دارچینی مغرب کے سرد ملکوں میں کبھی سونے کے مول بکتی تھی ، لکین اس کی آج بھی بڑی اہمیت ہے ، کھانے پینے کے مختلف اشیاء میں استعمال کے علاوہ اسے بخار اور ورم دور کرنے کے لئے بہت موثر قرار دیا جاتا ہے
ڈاکٹر جیمز اے ڈیوک کے مطابق دارچینی کو اسپرین کے برابر تو قرار نہیں دیا جا سکتا لیکن یہ درد دور کرنے کی صلاحیت ضرور رکھتی ہے ۔ بر صغیرمیں سر میں درد اور جکڑن کے لئے پانی میں پیس کر اس کا نیم گرم لیپ کثرت سے استعمال ہوتا ہے ۔ اس کے تیل میں جراثیم ہلاک کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے اس لئے حلق میں لگائے جانے والے تھروٹ پینٹ میں بھی یہ تیل شامل کیا جاتا ہے ۔
نزلے کے لئے اس کی چائے بہت موثر ثابت ہوتی ہے ۔ اس کا سفوف چائے کے ایک چمچ کے برابرکھولتے پانی میں 20 منٹ تک ڈھک کر دم دینے کے بعد اس میں شہد بقدرے ذائقہ ملا کر پینا چاہیئے ۔ دن میں اسکی ایک سے تین پیالیاں پی جا سکتی ہیں ۔
نزلے کا دشمن لہسن ۔۔۔ ۔۔۔
برصغیر میں لہسن کی چٹنی کا استعمال ایک نہایت موثر غذائی علاج سمجھا جا سکتا ہے ۔ بڑی بوڑھیاں گلے میں دکھن اور سوجھے ہوئے غدود کے لئے باسی یا خشک روٹی کے ایک نوالے کے ساتھ لہسن کے ایک دو جوئے سبز یا سرخ مرچ زور نمک کے ساتھ خوب چبا کر کھلایا کرتی تھیں اس سے بلغم خوب خارج ہوتا ہے اور گلے اور غدودوں کا ورم کم ہو جاتا ہے ۔
لہسن امریکہ اور یورپ میں دانت کے درد کے علاوہ طاعون ( پلیگ ) اور جزام کے لئے مفید سمجھا جاتا تھا۔ وہ نزلے زکام اور کھانسی کے لئےلہسن کو پیس کر شہید میں ملا کر کھلایا کرتے تھے ۔ آج سائنس دان بھی لہسن کی اس صلاحیت کے گیت گا رہے ہیں ۔ لہسن کی ایک کلی میں سینکڑوں موثر جز ہوتے ہیں جن میں گندھک کے مرکبات اور اس کا خاص جوہرایلی سین بھی شامل ہوتا ہے یہی اس کی مخصوس بو کا سبب ہے ۔
موثر قدرتی ضد حیوی اور دافع جراثیم ہونے کی وجہ سے فلو میں روزآنہ لہسن کی چار سے آٹھ کلیاں کچی کھانا بہت مفید ہوتا ہے ۔ اگر یہ پیٹ کو موقف نہ آئے تو ہلکا بھون کر یا پنیر میں ملا کر کھانا چاہئیے ۔ لیسن کو کھانے سے پہلے باریک کتر کر دس منٹ چھوڑدینے سے اس میں دوائی خواص بڑھ جاتے ہیں ۔
ادرک ، تلسی اور شہد کی چائے ۔۔۔ ۔۔۔
تازہ ادرک کچل کراس کا ایک چائے کا چمچ رس ایک پیالی گرم پانی میں شہد سے میٹھا کر کے پینے سے بلغمی کھا نسی ، سینے کی جکڑن اور سینے کو بہت آرام ملتا ہے ۔ بلغم خارج ہوتا ہے اور پسینہ آکربخار دور ہوجاتا ہے ۔ اس میں تلسی کے تازہ پتوں کا رس ایک چائے کا چمچ ملانے سے یہ اور بھی مفید ہو جاتا ہے ۔ تلسی کے خشک پتے بھی استعمال ہو سکتے ہیں ۔
پانی حیات بخش ہی نہیں شفا بخش بھی ہوتا ہے نزلے کی صورت میں سب سے زیادہ ناک اوراسکی اندرونی چھلیاں متاثر ہوتیں ہیں ۔
وائرس سے نجات حاصل کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ جھلیوں سے خارج ہونے والی رطوبت انھیں بہا کر لے جائے ۔
اس عمل میں وضو کا عمل بہت معاون ثابت ہوتا ہے ۔ ناک میں صاف ستھرا پانی چھڑھا نے سے اندرونی چھلیاں اچھی طرح دھل جاتی ہیں ۔اگر پانی نیم گرم اور نمکین ہوتو اسے ذرا اندر چڑھا کر بند ناک آسانی سے کھولی جا سکتی ہے ۔ نمک کی وجہ سے ناک میں نہ صرف ورم دور ہوتا ہے بلکہ وائرس کی خاصی تعداد بھی دھل کر خارج ہوتی ہے جس سے بڑا آرام ملتا ہے اور مرض کی شدت میں کمی آجاتی ہے ۔
پانی کی بھاپ میں سانس لینے سے ناک سے حلق تک کا اندرونی حصہ نزلے کی رطوبت سے صاف ہوجاتا ہے ۔ اور ناک کی بندش سے ہونے والی گھٹن اور بے چینی دور ہوتی ہے ۔ یہ عمل بہت آسان ہے ، کسی صاف ستھری پتیلی میں تین چوتھائی پانی بھر کر اسے ابالیں اور اسے ا حتیاط سے کسی میز وغیرہ پر رکھ کر سر کے اوپر صاف کپڑا یا تولیہ لپیٹ کر اٹھتی بھاپ کی طرف چہرہ جھکا کر اس میں گہرے سانس لیتے رہیں ۔
یہ ضروری ہے کہ چہرہ بھاپ سے جھلسنے نہ پائے ۔ اسی پانی میں اگریوکلپٹس آئل کی بھی چند بوندے شامل کر لی جائیں توناک کھلنے اور وائرس کا بہ آسانی نکلنے کا عمل اور بھی موثر ہو جاتا ہے ۔ یوکلپٹس کا درخت جس کو عرف عام میں سفیدا بھی کہتے ہیں ، ہر جگہ موجود ہے اس کے تازہ پتوں سے بھی یہ کام لیا جاسکتا ہے ۔ کھولتے پانی میں اس کے مٹھی بھر پتے شامل کر لیں ۔ آپ ہمدرد بام کی ایک دو بوندوں سے بھی یہ کام لیں سکتے ہیں ۔ اس عمل سے ناک کھلنے کے علاوہ گلے کی خراش اور کھانسی کو بھی آرام ہوتا ہے اور نزلے کے حملے کا مقابلہ کرنے میں آسانی ہوجاتی ہے ۔ یہ عمل پانچ سے دس منٹ تک کرنا چاہیئے ۔
شہد اور لیموں کا استعمال ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔
جو لوگ چائے پیتے ہیں انھیں نزلے کے دوران بغیر دودھ کی چائے میں شکر کی جگہ شہد اور لیمو کا رس شامل کر کے پینا چاہیئے ۔ چائے کے علاوہ سادہ گرم پانی میں ایک چائے کا چمچ شہد اور تازہ لیمو کا رس شامل کر کے چسکیاں لیکر پینے سے چھیلے ہوئے گلے کو بہت آرام پہنچتا ہے ۔ جی چاہے تو شہد میں لیمو کے چند خطرے شامل کرکے بھی پیا جا سکتا ہے ۔ شہد میں جراثیم کشی کی صلاحیت ہوتی ہے اور لیمو میں شامل حیاتین ج (وٹامن سی ) جسم کی قوت مدافعت کو مستحکم کر تا ہے ۔ اس مرکب کو دھیرے دھیرے نگلنے سے منہ میں لعاب خوب بنتا ہے اور گلے کو آرام ملتا ہے ۔
دارچینی : جراثیم کی قاتل ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔
بخار دور کرنے والی اور جراثیم کشی کی صلاحیت رکھنے والی دارچینی ہزاروں سال سے استعمال ہو رہی ہے ۔ مشرق کے گرم آب و ہوا والے ملکوں میں پیدا ہونے والی دارچینی مغرب کے سرد ملکوں میں کبھی سونے کے مول بکتی تھی ، لکین اس کی آج بھی بڑی اہمیت ہے ، کھانے پینے کے مختلف اشیاء میں استعمال کے علاوہ اسے بخار اور ورم دور کرنے کے لئے بہت موثر قرار دیا جاتا ہے
ڈاکٹر جیمز اے ڈیوک کے مطابق دارچینی کو اسپرین کے برابر تو قرار نہیں دیا جا سکتا لیکن یہ درد دور کرنے کی صلاحیت ضرور رکھتی ہے ۔ بر صغیرمیں سر میں درد اور جکڑن کے لئے پانی میں پیس کر اس کا نیم گرم لیپ کثرت سے استعمال ہوتا ہے ۔ اس کے تیل میں جراثیم ہلاک کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے اس لئے حلق میں لگائے جانے والے تھروٹ پینٹ میں بھی یہ تیل شامل کیا جاتا ہے ۔
نزلے کے لئے اس کی چائے بہت موثر ثابت ہوتی ہے ۔ اس کا سفوف چائے کے ایک چمچ کے برابرکھولتے پانی میں 20 منٹ تک ڈھک کر دم دینے کے بعد اس میں شہد بقدرے ذائقہ ملا کر پینا چاہیئے ۔ دن میں اسکی ایک سے تین پیالیاں پی جا سکتی ہیں ۔
نزلے کا دشمن لہسن ۔۔۔ ۔۔۔
برصغیر میں لہسن کی چٹنی کا استعمال ایک نہایت موثر غذائی علاج سمجھا جا سکتا ہے ۔ بڑی بوڑھیاں گلے میں دکھن اور سوجھے ہوئے غدود کے لئے باسی یا خشک روٹی کے ایک نوالے کے ساتھ لہسن کے ایک دو جوئے سبز یا سرخ مرچ زور نمک کے ساتھ خوب چبا کر کھلایا کرتی تھیں اس سے بلغم خوب خارج ہوتا ہے اور گلے اور غدودوں کا ورم کم ہو جاتا ہے ۔
لہسن امریکہ اور یورپ میں دانت کے درد کے علاوہ طاعون ( پلیگ ) اور جزام کے لئے مفید سمجھا جاتا تھا۔ وہ نزلے زکام اور کھانسی کے لئےلہسن کو پیس کر شہید میں ملا کر کھلایا کرتے تھے ۔ آج سائنس دان بھی لہسن کی اس صلاحیت کے گیت گا رہے ہیں ۔ لہسن کی ایک کلی میں سینکڑوں موثر جز ہوتے ہیں جن میں گندھک کے مرکبات اور اس کا خاص جوہرایلی سین بھی شامل ہوتا ہے یہی اس کی مخصوس بو کا سبب ہے ۔
موثر قدرتی ضد حیوی اور دافع جراثیم ہونے کی وجہ سے فلو میں روزآنہ لہسن کی چار سے آٹھ کلیاں کچی کھانا بہت مفید ہوتا ہے ۔ اگر یہ پیٹ کو موقف نہ آئے تو ہلکا بھون کر یا پنیر میں ملا کر کھانا چاہئیے ۔ لیسن کو کھانے سے پہلے باریک کتر کر دس منٹ چھوڑدینے سے اس میں دوائی خواص بڑھ جاتے ہیں ۔
ادرک ، تلسی اور شہد کی چائے ۔۔۔ ۔۔۔
تازہ ادرک کچل کراس کا ایک چائے کا چمچ رس ایک پیالی گرم پانی میں شہد سے میٹھا کر کے پینے سے بلغمی کھا نسی ، سینے کی جکڑن اور سینے کو بہت آرام ملتا ہے ۔ بلغم خارج ہوتا ہے اور پسینہ آکربخار دور ہوجاتا ہے ۔ اس میں تلسی کے تازہ پتوں کا رس ایک چائے کا چمچ ملانے سے یہ اور بھی مفید ہو جاتا ہے ۔ تلسی کے خشک پتے بھی استعمال ہو سکتے ہیں ۔
yarkan ka ilaj
یرقان (پیلیا) : ایک پیالی دودھ میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر دن میں دو بار صبح نہار منہ اور رات سونے سے قبل ایک ہفتہ تک پئیں۔
Likoria ka ilaj
امراض مستورات (لیکوریا، پیٹ میں درد، کمر درد) : دو گلاس پانی میں دس گرام پودینے کے پتے ابال لیں۔ پانی الگ کر کے اس میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل ملا کر نہار منہ اور رات سونے سے قبل پی لیں۔ علاج چالیس روز تک جاری رکھیں، اچار ، بیگن، انڈے اور مچھلی سے پرہیز کریں۔ اگر معمول سے زائد عرصہ تک ماہواری رُک جائے توایک کپ گرم پانی میں نصف چائے کا چمچہ کلونجی کا تیل اور دو چمچہ شہد ملا کر نہار منہ اور رات سونے سے قبل پی لیں۔علاج ایک ماہ تک جاری رکھیں۔ آلو، بینگن سے پرہیز کریں۔
Diabetes ka Desi Or gharelu ilaj
ذیا بیطس کا غذائی پرہیز ہی واحد علاج ہے۔جدید میڈیکل سائنس
بھی ذیابیطس کے حتمی علاج سے ابھی تک عاری ہےاور تاحال صرف شوگر کے توازن
کو برقرار رکھنا ہی علاج کہلاتا ہے۔جو دیسی،قدرتی ،یونانی علاج سے بھی ممکن
ہے۔درج ذیل تدابیر سےشوگر لیول کنٹرول اور مرض کو قابو میں رکھا جا سکتا
ہے۔
1۔۔۔گٹھلی جامن خشک 100گرام کوٹ چھان کرسفوف(پاؤڈر)بنالیں اور5 گرام سفوف پانی کےساتھ دن میں دو بارصبح نہار منہ اور شام 5 بجےلیں۔
2 ۔۔۔ نیم کی کونپلیں 5 گرام پانی 50 ملی لیٹر میں پیس چھان کر صبح نہار منہ یا ناشتے کے ایک گھنٹے بعد لیں۔
3 ۔۔۔ کریلہ کو کچل کر اسکا رس نچوڑ لیں یا جوسر میں اسکا جوس نکال لیں 25 ملی گرام یہ رس صبح و شام لیں۔
4 ۔۔۔ ہوالشافی:چنے کے آٹے(بیسن) کی روٹی اس مرض میں بہت مفید ہے۔
5۔۔۔لوکاٹ کے پتے 7 عدد ایک کپ پانی میں جوش دے کرچائے بنائیں اس ہربل ٹی کے ساتھ گٹھلی جامن کا 5 گرام سفوف صبح منہ نہار پھانک لیں۔انشاء اللہ چند دنوں میں شوگر کنٹرول ہو جائے گی۔
1۔۔۔گٹھلی جامن خشک 100گرام کوٹ چھان کرسفوف(پاؤڈر)بنالیں اور5 گرام سفوف پانی کےساتھ دن میں دو بارصبح نہار منہ اور شام 5 بجےلیں۔
2 ۔۔۔ نیم کی کونپلیں 5 گرام پانی 50 ملی لیٹر میں پیس چھان کر صبح نہار منہ یا ناشتے کے ایک گھنٹے بعد لیں۔
3 ۔۔۔ کریلہ کو کچل کر اسکا رس نچوڑ لیں یا جوسر میں اسکا جوس نکال لیں 25 ملی گرام یہ رس صبح و شام لیں۔
4 ۔۔۔ ہوالشافی:چنے کے آٹے(بیسن) کی روٹی اس مرض میں بہت مفید ہے۔
5۔۔۔لوکاٹ کے پتے 7 عدد ایک کپ پانی میں جوش دے کرچائے بنائیں اس ہربل ٹی کے ساتھ گٹھلی جامن کا 5 گرام سفوف صبح منہ نہار پھانک لیں۔انشاء اللہ چند دنوں میں شوگر کنٹرول ہو جائے گی۔
نشاستہ دار غذا ۔آلو ،چاول،چینی وغیرہ سے پرہیز ضروری ہے۔
Subscribe to:
Posts (Atom)


















